Trust & Safety
اسلام آباد میں استعمال شدہ کار فراڈ سے کیسے بچیں – خریداروں کی مکمل چیک لسٹ

استعمال شدہ کار خریدنا ایک بڑا مالی فیصلہ ہے، خاص طور پر جب معاملہ کسی انجان شخص سے ہو جس سے آپ کی ملاقات کلاسیفائیڈ پلیٹ فارم پر ہوئی۔ گزشتہ دو سالوں میں اسلام آباد ٹریفک پولیس اور سائبر کرائم ونگ نے گاڑیوں کے فراڈ کے مقدمات میں تیزی سے اضافہ دیکھا ہے – جن میں سے کئی متاثرین اپنی پوری جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ "بمشکل چلائی گئی اصلی 2022 ماڈل" کے لیے نقد رقم دینے سے پہلے یہ چیک لسٹ غور سے پڑھ لیں۔
’سوزوکی آلٹو ٹوکن‘ گینگ – اگست 2026 کا حقیقی کیس
اگست 2026 کے دوسرے ہفتے میں، اسلام آباد پولیس سائبر کرائم یونٹ اور گولڑہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا جنہوں نے جعلی کار لسٹنگز کے ذریعے جڑواں شہروں کے 19 خریداروں کو لوٹا تھا۔ ان کا طریقہ سادہ لیکن تباہ کن تھا۔
ملزمان نے مقبول اور کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں — سوزوکی آلٹو، ہونڈا سٹی، اور ٹویوٹا وٹز — کے اشتہارات پوسٹ کیے، جن کی قیمت مارکیٹ سے تھوڑی کم رکھی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ کالیں آئیں۔ وہ ممکنہ خریداروں سے ایف-10 اور جی-10 کی عوامی پارکنگز میں ملتے، جعلی رجسٹریشن بک اور سمارٹ کارڈ کی کاپیاں دکھاتے، اور فی گاڑی 50,000 سے 150,000 روپے "ٹوکن" یا "بکنگ ایڈوانس" وصول کرتے، یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ "آفیشل ٹرانسفر" کے بعد اگلے دن گاڑی پہنچا دی جائے گی۔
جیسے ہی موبائل والٹ کے ذریعے ٹوکن ٹرانسفر ہوا، بیچنے والا غائب ہو گیا۔ فون بند ہو گیا، اور ان کا بتایا ہوا "دفتر" ایک خالی دکان نکلا۔ پولیس نے جعلی نمبر پلیٹیں، چھ جعلی رجسٹریشن کتابیں، اور آنے والے عید سیزن کے لیے اہداف کی فہرست برآمد کی۔ فراڈ کی کل رقم 55 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی تھی۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے کہا: "ان تمام مقدمات میں، کسی بھی متاثرہ نے ادائیگی سے پہلے گاڑی کی بائیومیٹرک تصدیق یا ایکسائز ریکارڈ چیک نہیں کیا۔ ایکسائز ویب سائٹ پر دس منٹ کا وزٹ انہیں بچا سکتا تھا۔"
دیگر عام استعمال شدہ کار فراڈ جن سے آگاہ رہنا ضروری ہے
- ڈپلیکیٹ رجسٹریشن بک کی چال – چوری شدہ گاڑی ایک بالکل کلون شدہ رجسٹریشن بک کے ساتھ فروخت کی جاتی ہے جو کسی اصلی گاڑی سے ملتی ہے۔ صرف ایکسائز تصدیق ہی اسے بے نقاب کر سکتی ہے۔
- اوڈومیٹر سے چھیڑ چھاڑ – مائلیج گھما کر 30,000 کلومیٹر دکھایا جاتا ہے جبکہ گاڑی اصل میں 120,000 کلومیٹر چل چکی ہوتی ہے۔ یہ خاص طور پر امپورٹڈ نیلامی گاڑیوں میں عام ہے۔
- انجن نمبر جعلسازی – انجن اور چیسس نمبر دوبارہ اسٹیمپ کر کے کلین ریکارڈ سے ملایا جاتا ہے، جس سے چوری یا بڑے حادثے کے بعد رائٹ آف ہونے کا ریکارڈ چھپایا جاتا ہے۔
- لون پروسیسنگ ایڈوانس فیس – جعلی ڈیلر "موقع پر بنک فنانسنگ" کی پیشکش کرتا ہے لیکن پہلے پروسیسنگ فیس مانگتا ہے۔ قرضہ کبھی منظور نہیں ہوتا، اور ڈیلر غائب ہو جاتا ہے۔
- کار ٹوکن فراڈ – فراڈیہ اس گاڑی کا "ٹوکن" بیچتا ہے جو اس کی ملکیت نہیں ہوتی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ گاڑی بینک قبضے یا تاخیر شدہ نیلامی میں ہے۔ اسی غیر موجود گاڑی کے ٹوکن متعدد خریداروں سے وصول کیے جاتے ہیں۔
استعمال شدہ کار خریدار کی 10 نکاتی چیک لسٹ
- سب سے پہلے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ریکارڈ چیک کریں – excise.punjab.gov.pk یا اسلام آباد ایکسائز پورٹل پر جائیں۔ رجسٹریشن نمبر درج کر کے مالک کا نام، چیسس نمبر، ٹیکس اسٹیٹس، اور چوری کا ریکارڈ دیکھیں۔ اگر بیچنے والا ملاقات سے پہلے نمبر دینے سے انکار کرے تو یہ خطرے کا اشارہ ہے۔
- نادرا سے بائیومیٹرک تصدیق کروائیں – بیچنے والے سے ذاتی ملاقات کریں اور کہیں کہ وہ نادرا کے ای سہولت مرکز سے فنگر پرنٹ تصدیق کرائے۔ یہ تصدیق کرتی ہے کہ ان کی شناخت رجسٹریشن بک پر موجود شناختی کارڈ سے میل کھاتی ہے۔
- چیسس اور انجن نمبر خود جسمانی طور پر ملائیں – صرف سمارٹ کارڈ کو نہ دیکھیں۔ گاڑی پر چیسس نمبر کا مقام ڈھونڈیں (عام طور پر فائر وال یا فرنٹ مسافر سیٹ کے نیچے) اور یقینی بنائیں کہ یہ دستاویزات سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ اگر آپ کو اعتماد نہ ہو تو کسی مستند مکینک کو ساتھ لے جائیں۔
- گاڑی اور مالک دونوں کو ایک ساتھ دیکھے بغیر ٹوکن منی کبھی نہ دیں – اگر گاڑی دکھانے والا کہے کہ "مالک بیرون ملک ہے" یا "دستیاب نہیں"، تو فوراً انکار کر دیں۔ اصلی مالک کا فروخت کے وقت موجود ہونا ضروری ہے یا پھر نوٹرائزڈ، تصدیق شدہ پاور آف اٹارنی فراہم کرنی چاہیے۔
- کل رقم کے لیے نقد ادائیگی سے گریز کریں – مالک کے نام پر پے آرڈر یا بنک ٹرانسفر استعمال کریں۔ یہ ایک مستقل ریکارڈ بناتا ہے اور اگر بعد میں ملکیت متنازعہ ہو جائے تو آپ کی حفاظت کرتا ہے۔
- حادثے کے نقصان کا معائنہ کریں – غیر یکساں پینٹ، فریم پر ویلڈنگ کے نشانات، اور پینل گیپس کی جانچ کریں۔ ممکن ہو تو گاڑی کا سوزوکی یا ہونڈا کے کسی مستند ورکشاپ سے پری پرچیز انسپکشن کروا لیں۔
- ٹیسٹ ڈرائیو کسی محفوظ، مصروف علاقے میں لیں – بیچنے والے کو کبھی بھی سنسان ٹیسٹ ڈرائیو روٹ منتخب کرنے کی اجازت نہ دیں۔ خود گاڑی چلائیں یا کسی قابلِ بھروسہ دوست سے چلوا کر انجن کی آواز، اسٹیئرنگ اور بریکس کا مشاہدہ کریں۔
- سروس ہسٹری کی تصدیق کریں – اصلی سروس بکلیٹ طلب کریں۔ ایک حقیقی مالک کے پاس عموماً مجاز ڈیلرشپس سے سروس ریکارڈز موجود ہوتے ہیں۔ غائب ریکارڈز اور ضرورت سے زیادہ صاف انجن بے پوشیدہ مسائل کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
- ٹوکن ٹیکس اور چالان دوبارہ چیک کریں – بہت سی گاڑیاں ہزاروں روپے کے بقایا ٹوکن ٹیکس یا ٹریفک چالان کے ساتھ آتی ہیں۔ یہ ذمہ داری خریدار پر منتقل ہوتی ہے۔ سودا طے کرنے سے پہلے آن لائن چیک کریں۔
- مشکوک بیچنے والوں کی فوری رپورٹ کریں – Isloo.pk پر "رپورٹ لسٹنگ" بٹن استعمال کریں۔ سنگین فراڈ کے لیے FIA سائبر کرائم ونگ سے nr3c.gov.pk پر رابطہ کریں یا پولیس رسپانس کے لیے 15 ڈائل کریں۔
Isloo.pk کا عزم
ہم اسلام آباد میں کار کی خرید و فروخت کو محفوظ بنانے کے لیے وقف ہیں۔ ہماری ٹیم گاڑیوں کی لسٹنگز کی مسلسل نگرانی کرتی ہے اور مشکوک قرار دی گئی لسٹنگز کو ہٹا دیتی ہے۔ لیکن آپ کی ذاتی چوکسی ہی فراڈ کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔
گاڑی ایک بڑی سرمایہ کاری ہے – تصدیق پر ایک اضافی گھنٹہ لگائیں، اور آپ برسوں کا پچھتاوا بچا سکتے ہیں۔ پہلے پرکھیں، پھر تصدیق کریں، تب رقم دیں۔ اسی ترتیب میں۔
عام سوالات
اسلام آباد میں گاڑی کی رجسٹریشن کیسے تصدیق کریں؟
اسلام آباد ایکسائز پورٹل یا excise.punjab.gov.pk پر رجسٹریشن نمبر درج کریں۔ آپ کو مالک کا نام، چیسس نمبر، ٹوکن ٹیکس اسٹیٹس اور چوری کا ریکارڈ نظر آ جائے گا۔
کیا ٹوکن منی دینا محفوظ ہے؟
صرف اس صورت میں جب آپ گاڑی اور رجسٹرڈ مالک دونوں کو ایک ساتھ دیکھ چکے ہوں، چیسس اور انجن نمبر ملا چکے ہوں، اور ایکسائز ریکارڈ کی تصدیق کر چکے ہوں۔ کسی انجان شخص کو موبائل والٹ سے ٹوکن ہرگز نہ بھیجیں۔
اگر فراڈ ہو چکا ہو تو کیا کریں؟
فوری طور پر FIA سائبر کرائم ونگ (nr3c.gov.pk) یا قریبی تھانے میں رپورٹ کریں، اور تمام ادائیگی کی رسیدیں، چیٹ ریکارڈ اور بیچنے والے کا نمبر بطور ثبوت محفوظ رکھیں۔ لسٹنگ کو Isloo.pk پر بھی رپورٹ کریں۔
Related articles

اسلام آباد میں جعلی موبائل فون فروش فراڈ – رقم دینے سے پہلے نقلی یا چوری شدہ فون کیسے پہچانیں

اسلام آباد میں پراپرٹی فراڈ – جعلی لسٹنگز، فراڈ ڈیلرز اور جعلی دستاویزات سے کیسے بچیں
